Me and Myself
السلام علیکم!
بھائیوں اور بہنوں اور بچوں اور جوانوں اور
مُحترم بوڑھوں اور بوڑھیوں
پیارے
("¦")("¦")("¦")("¦")("¦")("¦")("¦")("¦")("¦")("¦")("¦")("¦")("¦")("¦")("¦")("¦")("¦")("¦")("¦")
آپ سب کی خیریت نیک مطلوب ہے۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ آج کل پاکستان کی موجودہ
حالت کچھ بہتر نہیں ہے۔ زیادہ تر لوگ بے روزگار ہیں۔ نوکری کا تو کیا کہنا سارے
سرکاری دفاتر میں کوئی بھی ویکنسی نہیں ہے۔ ہر کوئی پریشانی سے دوچار ہے۔ مہنگائی
دن بدن بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ دکاندار اپنی مرضی کے ساتھ قیمت بڑھا کر الزام حکومت
پہ ٹھونس دیتے ہیں جبکہ یہ ساری ملی بھگت
انہی کی ہوتی ہے۔ حکومتی ٹیموں کو اپنے گھریلو کام و کاج سے ہی فرصت نہیں ملتی تو
وہ بے چارے کیا عوام کی خبر لیں گے۔ اگر وہ لوگوں کے مسائل سُن بھی لیں گے تو اُن کو گھر سے مار بھی
پڑ سکتی ہے اس مار کو مارنے میں ان کی امی یا بی بی ہوسکتی ہے۔ بے چاروں نے روزانہ
کچھ خرچہ مرچہ بھی تو لے کر جانا ہوتا ہے نا۔ اوہ ہو! یہ خرچہ ہی تو ہے جو اُن کو
دیوانہ بنا دیتا ہے۔ پہلے تو وہ دفتر میں اپنے آفیسر کی ڈانٹ سنے پھر گھر والی یا
والوں کی تھمائی ہوئی لسٹ
" یہ اگر سب نہ لے کر آئے تو گھر نہ آنا، سُن لیا تُم نے۔ آجاتے ہیں
روزانہ خالی ہاتھ، لوگوں کو دیکھا ہے کس طرح اپنی بیویوں کے آگے پیچھے پھرتے
ہیں۔کتنی شاپنگ کرواتے ہیں اور ایک تُم ہو کہ تمہارا تو جیسے دھیان ہی نہیں ۔
دیکھو آج کل ستمبر ہے اتنی گرمی پڑتی ہےاور گھر میں اے سی نہیں ہے سوچو کچھ کس طرح
لگوانا ہے۔"
اب ایک بے چارہ اور اتنے سارے لوگ جب حملہ آور ہوں تو کیا بچتا ہے اس سرکاری
آدمی کا۔ آخر اس سرکاری آدمی نے خریداری بھی تو کرنی ہے اور وہ بھی ایسی ویسی نہیں
بھئی بلکہ بھاری بھرکم سی بڑی سی نظر آنے والی۔ جس میں بڑے بڑے شاپر ہوں اور ان
میں پھل تو ہو ہی بلکہ مٹھائی بھی ہو، اگر بی وی کے لیے کوئی سوٹ ہو یا کچھ ایک
چھوٹا سا ہار ہہو جائے تو کھانا گرم ملے گا اور واہ جی واہ چائے کی پیالی بھی ہو
گی روٹیاں بھی گرم کر کے دی جائیں گی۔ خاطر مدارت کروانے کے لیے اتنا کچھ گھر لے
کر جانے والا یہ بے چارہ اگر اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر اور کسی کے پاس جا کر تھوڑا سا
کچھ لے لیتا ہے تو کوئی بات نہیں بے چارہ۔ اگر کبھی افسروں کے دباو میں آنکر کسی
دکان والے کی خبر لے بھی لیتا ہے تو اس کو سارا سال بطور ریفرنس کے بتاتا رہتا ہے
کہ دیکھے میں تو ہر وقت مصروف ہی ہوتا ہوں۔ اگر یہ بے چارہ سرکاری افسر اپنے کام
کی طرف دیا نتداری سے توجہ دے تو وہ ان کرپٹ دکانداروں کو اپنی مرضی نہ کرنے دے۔ ان
دکانداروںکا ایک الگ ہی مافیا ہے جو اپنی ملی بھگت سے ایک قیمت مقرر کر لیتے ہیں۔ یا
یہ ہے کہ ان سے پہلے کچھ ساز باز کرکے ان کو اجازت نامہ دلوا دیتا ہے کہ سب ٹھیک
ہے۔ یہ بات کہ سب ٹھیک ہے کا نعرہ لگانا کوئی انصاف نہیں ہے۔
پہلے ہی لوگوں کے پاس راس نہیں ہوتی کیونکہ اس کی وجہ کم امدنی ہے، یعنی
تنخواہوں کا لیول بڑھتی ہوئی مہنگائئ کے برابر نہیں۔ ایک ہی چیزکی قیمت ایک ماہ
میں کئی بار بڑھ جاتی ہے۔ حکومت بھی کیا کر سکتی ہے اب وزیر صنعت وتجارت یا خوراک
و پیداوار نے جا کر یہ تھوڑا معلوم کرنا ہے کہ کوکنگ آئل کی کیا قیمت ہے ان لوگوں
کا اس سے کیا تعلق۔ یہ سب کیا دھرا تو ڈسٹری بیوٹر حضرات کا ہے جو اشیاء خریدتے
اور اپنی من مانی قیمتوں پہ دکانداروں کو دیتے ہیں ۔وزیر صاحب تو اسمبلی میں بیٹھ
کر ملک پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں کہ دشمن ان کی بے خبری میں ملک پہ قابض ہی نہ
ہوجائیں۔ اس کے علاوہ اور بہت سے مسئلے ہیں۔ یہ تو چھوٹی سی باتیں ہیں عوام کو
چاہیے کہ وہ خودہی ان باتوں کو دیکھے نہیں کچھ کرسکتے تو صبر کریں ، دیکھے نا ملک
ترقی کر رہا ہے بجلی کے منصوبے لگ رہے ہیں، ہائئ وے سڑکوں کی تعمیر جاری ہے، لاہور
میں اورنج لائن ٹرین بنائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ اقتصادی راہداری بن رہی ہے۔ اس
کو کاشغر سے گوادر تک بنایا جا رہا ہے۔ کیا اس میں کوئی کم کام ہے۔
لوگ بیمار ہوتے ہیں تو وہ اپنا خیال نہیں رکھتے بیماری کو دعوت دینے والے کس طرح سے اس کے حملے
سے بچ سکتے ہیں۔ اب بھائی صاحب ملک میں اتنے ڈاکٹر، نرسیں اور ہسپتال کہاں سے لے کر آئے وزیر صحت بھی کیا
کریں وہ کوئی ذمہ دار تھوڑا ہیں۔ اب ایک آدمی جلو میں ڈینگی کے مچھر کے کاٹنے سے
بُخار میں مبتلا ہو جاتا ہے اور بہت شدید حالت میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا
ہے اب بات یہ ہے کہ وہ اس طرف گیا ہی کیوں تھا جع مچھر نے اُس کو کاٹ کھایا دیکھو
بھئی غلطی ہے اس مرنے والے کی۔حکومت کو بُرا بھلا نہ کہے کوئی۔ عام آدمی خود ہی
ٹھیک نہیں ہے۔
اطھا اس کا مطلب تو پھر یہ ہوا کہ ہر کوئی خود ہی ڈاکٹر ہو یا دکاندار ہو، یہ
بات ٹھیک ہے۔ گُڈ پوائنٹ واہ جی واہ پھر تو آپ کسی کو الزام نہیں دے پائے گے۔ جیسے
کہا جاتا ہے کہ شام 5 بجے سے رات 10 بجے
تک کم سے کم لائٹ جلائے۔ ہاں یہ ٹھیک ہے بل بھی کم ہی ائے گا اور اگر آبھی جاتا ہے
تو جلایا تو آپ ہی نے ہے نا " یار تُم یہ بات مان کیوں نہیں لیتے کہ میٹر تو
تُم ہی استعمال کرتے تھے۔
ہر سال سیلاب آجاتا ہے تم کیوں ان علاقوں کو
چھوڑ نہیں دیتے جہاں پانی آنکر تباہی پھیلا دیتا ہے اور ہاں ایک اہم بات اگر
تنہارے ساتھ کوئی بوڑھے رہتے ہوں تو ان کو پہلے ہی کسی مخفوظ مقام پہ پہچادو کوئی
آپ کی مدد کے لیے نہیں آئے گا۔ یہ میڈیا کی خبریں اور پراپیگندا تم سے کیا تعلق
رکھتا ہے۔ وہ بڑے لوگوں کی خیر خواہی کرتے ہیں تم لوگ تو ہو ڈاون ٹروڈن غریب
غُرباء کوئی شرم کرو کیا تم اپنے چھوٹے چھوٹے مسئلے لے کر اور ہاتھ میں فائلیں اور
ان میں لگی درخواستیں لے کر پہنچ جاتے ہو بحث کرنے۔ اتنے فارغ آدمی ہو تم۔
اور ہاں یہ گوشت سبزی کا رونا نا رویا کرو کہ جی مُرغی کا گوشت کل 180 تھا اور
آج 240 کیوں ہے یار مُرغی کو کیا تم نے پالا ہے ہے لو دیکھو تو ذرا نہ تم نے کوئی
کام کیا نہ ہی اس کی ذمہ داری لی اور چند نوٹ تھامے چلتے بنے کہ جس طرح دکان کا
مالک آیا ہے۔ دال کھا لیا کرو نہیں کھا سکتے یہ گوشت اگر تم۔ اور ہاں ارے میاں یہ
تم کیا کہتے پھر رہے ہو کہ مُرغی کی دیکھ بھال پروپر نہیں ہے اور اسکو غلط فیڈ دی
جاتی ہے تمہیں کس طرح پتا چلا کہ ایسا ہے۔ رہنے دو نہ تو تمہاری ان لوگوں تک کوئی
رسائی ہو سکے گی اور نہ وہ تمہاری سُنیں گے۔ اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ تم خود ہی
چور اور کوتوال ہو۔ چینی مہنگی ہو گئی ہے اب پھر وہ مہنگا ہو گیا تم تو بس شکایتوں
کی ٹوکری ہو۔ یہاں رہنا تمہیں گوارہ نہیں تو جاو کسی ویران جگہ پہ اپنی جُگی بنا
لو جہاں نہ بجلی ہو نہ پانی نہ گیس۔ ادھر شہر میں رہو گے تو اصول حکومت کے ہونگے اور اگر عدالت میں
جاو گے تو کیا وہاں حکومت کے لگائے وکیل اور جج صاحبان تم کو سوالات نہ پوچھے گے،
پھر تم کو ہر صبح وہاں ان کی عدالت میں جانا ہوگا، کہو گے میرا وقت برباد ہوگیا
اور میرے مالک نے غیرحاضری کی وجہ سے میری تنخواہ کاٹ لی پھر کیا کروگے۔ یہ تم جو
اپنا غم ہر کسی اپنے جیسے کو بتاتے رہتے ہوتو یہی تمہاری غلطی ہے۔ سارے کا سارا
ٹولہ اکٹھا ہو کر شروع ہو جاتا ہے۔سٹرائیک پہ سٹرائیک اور کسی طرف احتجاج کیا کرتے
ہو تم۔ یار چینی مہنگی کردی کسی نے اب جُرم تو ہوا اور اب بولے کون تو تم پھیکی
چائے پی لیا کرو۔ پھیکی کھیر کھا لیا کرو۔ شوگر بھی نہیں ہوگی، بچت بھی اور علاج
بھی۔
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
چپک رہا ہے بدن ست لہو کا پیراہن
اب اپنی جیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے
واہ! مرزا نوشہ نے بھی خوب موقع کی مناسبت سے اشعار کی کیا ہی خوبصورت اور
سیرت کو دیکھ کر بچھاڑ کی ہے۔ کوئی ٹھیک نہیں ہے یہ بات نہیں ہے بلکہ ہم صحیح نہیں
ہیں۔حکومت کا رونا روتے ہو وہ تو خود اپنی جمع پونجی لگا کرمیدانِ کارزار میں آتے
ہیں اب ان کے پاس کیا رہ گیا جو وہ سب مال و متاع تو الیکشن کی مہم میں سرف کر
بیٹھے اب کچھ کمانا بھی ہے یار ان معصوموں کے بھی آل اولاد ہے،کچھ تو خیال کر لو ان
کا بھی۔ نہیں نہیں ایسے نہیں نہ یار یہ
اول فول نہ نہ بس بس ، اچھا پھر تم ہی ٹھیک نہ ہوئے وہ سیاستدان نہ تم سے ملا اور
نہ تم نے اس کی سنی اور نہ اپنی سنائی اور نن چقو چلانا شروع ہو گئے استغفرا للہ
رحم رحم رحم۔ جب تک کسی کو ملو نہیں معاملہ نہ کرلو تب تک کوئی فیصلہ نہ دو۔ ہاں
البتٰہ عوامی توجہ نہ رکھتا ہو تو ایک الگ بات ہے۔
دیکھو ساری کائنات کا مالک تو وہ ایک
واحد، یکتا، بے مثال اللہ کریم ہے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے اس کی شکرگزاری
اس کی حمد تسبیح و تہلیل کیا کرو اسی کی عبادت کرو وہی ہے جس کے پاس سے یہ سارا
رزق اُترتا ہے۔ سُبحان اللہِ والحمدُللہ رَبِّ العالمین۔یہ سب سرکاری، غیر سرکاری
، دکاندار،مولوی، علماء، استاد، ڈاکٹر، نرسیں،چرند پرند الغرض کون ہے جو اس کی حد
سے باہر ہے۔ مت کہو سے نہ شکایت کیا کرو۔ سب کا مالک ایک ہے جو دیتا ہے تو کھا رہے
ہیں سورج چاند ستاروں کو کون کنٹرول کیے ہوئے ہے؟ دن و رات اتنی باقاعدگی کے ساتھ
آتے جاتے ہیں آسمان سے پانی کون برساتا ہے؟ پھر زمین میں اس پانی کون جمع رکھتا ہے
ہمارا تو جمع کیا ہوا چند دنوں بعد باس مارنے لگتا ہے۔ یہ سب مرنے کے بعد کہاں چلے
جاتے ہیں ہاں بالکل اسی کی پاس۔
حضرت موسٰی علیہ السالم کو کس نےفرعون اور اس کے ساتھیوں سے بچایا بلکہ اللہ ا
وہ وعدہ جو ا س نے حضرت موسٰی کی ماں سے کیا کہ ابھی اس کو دریا میں چھوڑ دو ہم
بعد میں اس کو تمہارے حوالے کردیں گے۔ کیا یہ بات تم لوگوں کے سمجھنے کے لیے کافی
نہیں وہ فرعون لعنۃ اللہ جو اپنے آپ کو خُدا کہتا تھا۔ اسی کے گھر آپ علیہ السالم
نے پرورش پائی۔ ہم نبی آخرالزماں حضرت محمدِ مُصطفٰی احمد مُجتبٰی تاجدارِ مدینہ
سرورِ سینہ سخی لجپال صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ و بارک وسلم کے اُمتی ہیں مگر
ہمارا سارا دن انہی دوڑدھوپ کے کاموں میں سرف ہوجاتا ہے۔
جو اللہ کو ایک نہ مانے اُس پہ یقین نہ رکھے اور رسول اکرم ﷺ کے لائے ہوئے دستور العمل یعنی قُرآن پہ عمل پیرا ہونے کو بوسیدہ عمل گردانے
کہ جی دنیا تو چاند پہ پہنچ گئی اور میں آج بھی وہی مسجد میں جاوں اور ٹوبی پہن کر
رکھوں اور چہرے پر ڈاڑھی سجا لوں جبکہ نوکری کرتے ہوئے وہاں لڑکیاں بھی تو ہونگی
تو ان کو بھی اپنا آپ ثابت کرنا ہے کیونکہ حُسن پرستی کس میں نہیں ہے اسی طرح ہی
تو لوگوں کا اکثر رُحجان ہوتا ہےاور پھردنیاداری میں یہ کون سمجھتا ہے کہ ہماری یہ
جدوجہد ایک دن ختم ہوجائے گی۔ اب بات ہوئے
پکے یقین اور مکمل بھروسے کی اور
مضبوط توکل کی۔ جو ہم عام لوگوں کی انتہائی کمزوری ہے۔ اللہ تعالٰی کی ذات ہم
لوگوں کو ہمارے ہی گمان پہ ملتی ہے کہ جس کہ ہمارا گمان ہے اسی طرح کا معاملہ ہم
پہ نازل ہوتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
Comments
Post a Comment