نشے میں چُور

 نشے میں چُور
یہ زیرِ بحث عنوان کہ آج کا انسان اپنی انا، طاقت اور مرضی کے نشے میں چُور ہے۔ وہ یہ جانتا ہے کہ وہ اپننی مرضی سے ہی اس کائنات کو تھامے ہوئے ہے۔ وہ اپنی طاقت سے اُٹھتا ہے اور اپنے روزمرہ کاموں کو سر انجام دیتا ہے کسی دوسرے سے اس کو پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اپنے آپ کو بااختیار سمجھتا ہے۔ وہ یہ بات قطعی طور پر فراموش کر ڈالتا ہے کہ ایک اور قوت بھی ہے جس کے پاس جانا ہے اور پھر اسی کے پاس رہنا ہے۔مگر انسانی زعم کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو ایک دیو ہیکل اور مالائی جنس کے جاننے لگتا ہے۔ وہ اس لیے کہ جب اپنے کاموں کو دیکھتا ہے تو خوش ہوتا ہے کہ واہ بھئی میں تو بہت طاقتور ہوں ، میرا کسی اور سے کیا موازنہ۔ میں تو اب پہلے سے بھی اور محنت کرکے سب سے آگے بڑھ جاوں گا۔ اپنی قوتوں پہ انحصار کرنے والا یہ فرد دھوکے کا شکار ہے۔
نشے میں چُور تو وہ سپاہی بھی ہے جو مسلسل فتوحات کے بعد آرام کرنے کے لیے لیٹے تو دشمن اس کا سب کچھ لوٹ کر لے جاتا ہے۔تھوڑی دیر کے لیے بھول جانے والا انسان اس بات کو نہیں سمجھ سکا کہ جو بھی ہے وہ سب کا سب اللہ واحد کی ملکیت ہے۔ وہ نور السٰموات والارض ہے۔ وہی سب جہانوں کا پالن ہار ہے۔ آیت الکرسی سورۃ البقرۃ کی اہم ترین آیت ہے اس کو قرآن پاک کی سورتوں کی سردار آیت کہا جاتا ہے۔ اس میں اللہ پاک کی حقانیت کو بہت واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
اللہ ھو لا الہ الاھو الحی القیوم۔ اس آیت کے آغاز ہی میں بیان ہے اللہ جو زندہ ہے اور قائم کرنے والا ہے۔ لوگ یہ بات جانتے ہوئے بھی بات نظر اناداز کرتے ہیں کہ ساری کائنات کو حضور اکرم کے نُور سے بنائی گئی ہے۔ جب ہم لوگ اس نُور حق سے ہیں تو پھر اتنا اترانے کی کیا ضرورت ہے یہ اترانا تو قبل اسلام تھا۔ لوگ اپنی اولاد، دولت، جائیداد، جسمانی قوت اور خاندانی جاہ و جلال پہ بہت فخر کیا کرتے۔
اولاد کی اچھی  تعلیم وتربیت، دولت کی منصفانہ تقسیم، جائیداد میں وراثتی اختیارات کا عمل دخل، جسمانی قوت کو حق سچ کی خاطر استعمال میں لانا اور خاندانی شیخیاں  نہ بگارنی  مستحسن بات گردانی جاتی ہے۔ اللہ ہی کی حاکمیت ہے جو سب جہانوں کا مالک ہے۔ اُس نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران کو انسانی فلاح و بہبود کے لیے ہی معبوث کیا ہے۔ انسان ہے کہ اپنے نشے سے باہر آنے کو تیار ہی نہیں۔ ایسا کیوں ہے؟  وہ یہ دیکھتا ہے کہ میں اپنے سارے کام تو خود ہی سر انجام دیتا ہوں۔ وہ اگر کسی کاروباری تنظیم کا مالک ہے تو بہت جلد اپنے کاروباری مقام پہ پہنچ جاتا ہے اور دیر سے آنے والوں کو خوب اپنی پابندی وقت کے لیکچر دیتا ہے، اگر کسی دفتر میں آفیسر ہو اور ایک کثیر تعداد اُس کے تحت کام کرتی ہو تو وہ وہاں بھی اپنی بڑائی کے پُل باندھتا ہے۔ غرض کے کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ اپنی انانیت کا مارا ہوا ایسا شخص کب یہ چاہے گا کہ کوئی اس کی ہمسری کرے وہ تو بس اپنے نشے میں چُور ہے۔  
جو دستورِ عمل کہ سید الانبیاء ختم الرسل سرکارِ مدینہ قُرآن کریم کی شکل میں لائے ہیں اس پہ اپنی ساری زندگی گزارنا ہی اصل اور ہمیشہ رہنے والا نشہ ہے۔ یہ ایسا نشہ ہے جس کی لذت انسان کی نسل در نسل آبیاری میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ قلب، روح اور نفس کا تصادم ہے ہی اسی وجہ سے کیونکہ ان تینوں کی تقدیر، تدبیر اور تربیت اللہ کی اسی پاک کتاب میں رقم کر دی گئی ہے۔ قُرآن مجید فُرقان حکیم میں اس دنیاوی زندگی کو گزارنے کے طور طریقے اور اس کے بعد آنے والی ابدی اور دائمی زندگی کو مکمل بیان کر دیا ہے۔ یہ کتاب باقی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جس کو تمام مذاہب کے علماء اور پیشواء من و عن تسلیم کرتے ہیں۔ حضور عالی مقام سیدنا و محبوبنا و مُرشدنا تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ و بارک وسلم علیہ اللہ تبارک و تعالٰٰ نے اس کو نازل فرمایا۔ وما ارسلنک مبشرا و نذیرا۔
وما ارسلنک الا رحمۃ اللعالمین۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ کو اللہ رب العزت کی رضا، خوشنودی،محبت اور شعار میں گزارا۔ آپ تو خود نور من نور اللہ ہیں۔ اللہ پاک قُران میں ارشاد کرتا ہے کہ میرا پیارا رسول محمدِ مصطفٰٰ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا۔ وما ینطق عن الھوٰی۔ ان ھُو الا وحی یوحی۔ اب بتاو تم اور تمھارا نشہ تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ اپنی ہی ایجاد و اختراع ہی نہ ہو۔ قبل اسلام عرب والے بھی تو اسی زبان کو بولتے تھے یہ الزام کسی کافر ، فاسق، فاجر، مشرک اور منافق کے لیے بہت آسان اور پُرلُطف ہوگا۔ لیکن جو لوگ کہ آپ پہ اور آپ کے اصحاب اور آپ کی آلِ پاک کو عزت و حرمت کی نظر سے دیکھتے ہیں وہ کسی بھی نشے کا شکار نہیں یہی صراطِ مستقیم ہے۔ اگر اب تم کو یہ صراط نظر ہی نہیں آتا یا تم کو وہ حضور پاک کا زمانہ نہیں ملتا یا ایسے لوگ نہیں مل پاتے تو اس میں قصور بھی تمیارا ہی ہے، اب تم پوچھو گے کہ یہ کیسے؟ تم یہ بھی کہو گے کہ میں نے تو اپنے تئین لاکھ کوشش کی لیکن راستہ ہے کہ مل ہی نہیں اور کوئی بندہ جو مجھے وہی زمانہ لا کے دےتو واقعی یہ بات مشکل ہے۔
آپ نبئی آخرالزماں ہیں آپ کے بعد کوئی نبی معبوث نہین کیا جائےگا۔ آپ پہ قُرآن نازل کیا گیا اور اس کے نزول کے بعد اللہ پاک نے آپ سرکار کو اپنے پاس بلالیا اس لیے کہ آپ ہم لوگوں کو جو زندگی بسر کرنے کے جو اطوار سکھا گئے ہیں اور اپنے پیچھے اہلِ بیت، اصحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اولیاء کرام رحہما للہ کی جماعت چھوڑ گئے ہیں تو قرآن اور آپ کی یہ متبرک جماعت آپ کے کام اور مشن کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب راستہ سامنے ہو اور پھر بھی تم پوچھتے رہو تو تم نادان ہی نہیں بلکہ اپنی انا کے نشے میں ہو۔ مگر جس دن کے آواز آئے گیکہ اُٹھو اب تمہارے حساب کا وقت آ گیا جس کا کہ ہم نے تم سے وعدہ کیا تھا۔تب کہیں جا کر تم پر یہ نشہ اُترے گا۔ ویسے تو مرنے کے قریب ہی یہ نشہ اُتر کر ایک طرف ہوجاتا ہے کیونکہ موت کا خوف ایک بڑی ہی ڈراونی چیز جو انسان کے سانس کو خشک کر دیتی ہے۔ وہ تما م لذتوں کا خاتمہ ہے، تمام دنیاوی خوشیوں پاش پاش ہوجاتی  ہیں جب انسان کو یہ احساس ہو جائے کہ اب وہ اگلے جہان کی منزل کو پہنچے گا تو اس کو اس کی کاہلی، سُستی، عیش و عشرت اور نفسانی لذات کے بارے میں سوالات ہونگے وہاں اس کا سوائے اللہ پاک کے کوئی دوست یا مددگار نہ ہوگا۔ یہ پوچھا جائے گا کہ اے ذی نفس تو ہمارے میں کیا خیال کرتا تھا کہ ہم سے نہیں ملے گا یہ سوچ رکھتے تھے کہ اب تم قبر ہی میں لیٹے رہو گے اور ہم تم سے کچھ بھی پوچھنے کا حق نہیں رکھتے یا یہ کہ ہم صرف قبر میں تم سے حساب لے گے اور پھر تم آزاد ہو، اس طرح کے سوالات جب اس سے پوچھے جائیں گے تو وہ کچھ نہ بول پائے گا۔ وہ اس لیے کہ جو دنیاوی غرض و غایت رکھ کر اللہ کی طرف رجوع نہہیں لاتے یعنی یہ کہ اس کو خدائے واحد نہیں مانتے اس کی توصیف و تعریف کے لیے اُن کے پاس وقت نہیں تو ایسا شخص واقعی ہی نشہ میں چُور ہے۔    


Comments

Popular posts from this blog

Terrorism in pakistan

Local Body Elections in Pakistan