facebook.com
Facebook.com/rehan.bashir.737
میرا نام
ریحان بشیر ہے۔ میری عمر 50 کو چُھو رہی ہے۔ میں دل کے عارضے میں مبتلا ہوں۔ میرا
پیشہ پڑھانا ہے یعنی اُستادی۔ میں سلسلئہ عالیہ قادریہ علائیہ شکوریہ میں بیعت بھی
ہوں۔ اب تو چند سالوں اسی سلسلہ میں کچھ وقت صرف کرکے لوگوں کو مُرید کرنے کی
اجازت بھی ہے۔ جو بات آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آخر شیطان،
نفس،اور دنیا سےکس طرح نپٹا جائے۔ آخر وہ
کون سا آلہ ہے جو ان سے اس طرح سے برتاوا رکھے کہ یہ کنٹرول میں رہیں۔ نہیں تو
شیطان کا تو یہی مطمئہ نظر ہے کہ انسان اس کی جماعت میں شامل ہو جائے اور اس کی
کہی ہوئی بات پہ عمل پیرا ہو یعنی نافرمانی خدا۔
انسان کا نفس اور دنیا یہ دونوں شیطان کے ساتھی
ہیں بھی اور نہیں بھی۔ اگر ان دونوں کو لگام ڈال لی جائے تو یہ خدائی حکم کے تحت اپنے کام کو کرتے رہتے ہیں اور ذرا لگام ڈھیلی پڑی
نہیں اور یہ تینوں انسان کی کٹھیا کھڑی کر دیتے ہیں۔ جان تو اللہ ہی کو دینی ہے
جانا تو ہر ایک نے قبر ہی میں تو وہاں حساب و کتاب بھی ہوگا۔ اب شیطان اس بات کو
انسان کے ذہہن میں بیٹھنے نہیں دیتا یا اپنی بھرپور کوشش سے اس کو اپنے ہتھ کنڈے
استعمال کر کے اس کی راہ میں روڑے اٹکاتا ہے۔ جو بھی اس سے نبتا ہو وہ سرانجام دیے
بغیر نہیں رہتا اور اس حقیقت کو اس کے دماغ سے محو کر دیتا ہے۔
ہمارے ہاں آجکل کے امیر کبیر لوگ کیا اپنی دن و رات کی محنتِ شاقہ سے
کوئی ترقی کرتے ہیں ایسا بالکل نہیں وہ جو ان کا دوست ( شیطان ) کہتا ہے اس پہ عمل
کرنا شروع ہو جائے بس پھر ایک بیک ڈور سے وہ خوب ترقی کرتے ہیں اب بھائی یہ کس کو
درکار ہے جو اس ترقی یافتہ سے جا کر یہ پوچھے کہ تم نے رات ہی میں یہ سب کچھ کہاں
سے لیا وہ کہے گا کہ میں نے محنت کی جب تم لوگ سو رہے ہوتے ہو تو میں دن و رات ایک
کر دیتا ہوں تم کیا جانو یہ کام کس طرح میں نے آگے بڑھایا ہے اور واقعی ہی اس سوال
والے کے یہاں ایسا کوئی سین نہیں ہوتا تو وہ چُپ کر جاتا ہے۔ اب اس کے پاس اس طرح
کے ذرائع نہیں ہیں جو اس کی ترقی میں چھپی کرپشن کو ثابت کر سکے۔ اس طرح کے باشندے
بنکوں سے سود لے کر ، مختلف قسم کی لاٹریاں کھیل کر، کم قیمت پلاٹوں کو مہنگے
داموں بیچ کر، اپنا منافع بڑھا کر، مختلف سکیموں میں حصہ لے کر اور پتا نہیں کیا
کیا کچھ کرکے یہ انہی باشندوں کو آتا ہے جو کہ وہ کرتے ہیں۔ تو صاحب روپیہ پیسہ
ایسے ہی آسانی سے بھی اکٹھا ہوتا جس طرح کہ ایک عام آدمی سمجھتا ہے۔
بقر عید پر یہی امیر کبیر لوگ جو سارا سال اپنے کاروبار کا رونا روتے
رہتے ہیں کہ آج کل تو اورنج لائن منصوبے نے کام کو ختم کر ڈالا ہے وہی جب وقت ھذا
کے مطابق دو بکرے اور ایک اُونٹ لے کر آتے ہیں جن کی مالیت تقریبا دو لاکھ چالیس
ہزار بنتی ہے تو اس میں وہ حصے ڈالنے شروع کر دیتے ہیں۔ کہ کہیں نظر نہ لگ جائے
ہمارے مال کو۔ یہ عادت بھی تو ضروری ہے جو
ایک غریب میں نہیں ہوتی۔ وہ تو ہر ایک کو اپنی بات بتائے بغیر نہیں رہتا اپنے راز
کی باتیں لازامی بتاتا ہے۔
اُستادوں نے کب اچھی زندگی گزاری بس خواب ہی دیکھے ہوتے ہیں، سکیمیں
بنائی ہوتی ہیں، پلان بہت ہوتے ہیں مگر ان کو پورا کرنا ہو تو رقم نہیں ہوتی۔ اب
ساری زندگی ایسے ہی گزر جاتی ہے اور آخر میں کوئی بیماری اس اُستادِ زمانہ کا گھر
دیکھ لیتی ہے اور پھر کیا ڈاکٹر ہسپتال کا کھیل اس کو اس دنیا سے لے چلتا ہے۔ وہ
اسی چکر میں کہ وہ کون ہے جو اس بزنس مین کو پیسہ دیتا ہے بے چارہ پریشان حال نہ
کسی محفل میں جا سکے وجہ اچھا لباس نہیں اور اگر ہے تو اس کی اپنی ہی نظر نہیں
ہٹتی اپنے وجود سے۔ اُستاد ہے نہ بچوں کو روزانہ سبق دیتا ہے دیانت کا، صداقت کا،
امانت کا، اعاانت کا، کسی کے ساتھ دھوکہ نہ کرنا ، جتنا سرمایہ ہو اسی پہ قناعت
کرنا، استقلال و صبر سے رہنا، تھوڑے مال پہ اللہ سے مایوس نہ ہوجانا اب اس طرح کا
جب وہ خود ہی سبق پڑھائے گا تو کس بزنس مین سے کہے کہ میں نے بھی سود پہ رقم لینی
ہے۔ وہ اپنی اس عزت کا کیا کرے جو اس کو اگر وقت پڑ جائے تو مختاجِ ازمنہ کردے۔
اب یہاں شیطان کا کردار بڑا ہی اہم ہوجاتا ہے وہ ان جیسوں کو کہتا ہے
کہ جتنا تم تجربہ رکھتے ہو اور اتنی محنت کر رکھی ہے تو آو آگے اور کسی سے رقم
ادھار مانگو اتنوں کو پڑھا یا ہے کوئی تو تم کو سنے گا، اب یہ اُستاد ذی وقار اپنا
سا منصوبہ جاوداں لے کر جب بازار کارِزار میں اپنا قدم رنجہ کرتے ہیں تو وہاں کی
بڑئ بڑی مچھلیاں ان بزرگِ لا مقام کو
پنپنے نہیں دیتی ، اب کیا ہو جو جادو کی چھڑی ہو جائے کہ چلو لگی ہوئی رقم تو کم
ازکم واپس ہو۔ ایک بندہ اپنی ساری زندگی کو لوگوں کے نام کرگیا اور اب اس کو جب
ضرورت اتی ہے کہ کیا کھاوں اور کس طرح سے دنیا گزاروں تو زندگی کے پینترے اس کو چت
کر ڈالتے ہیں۔ وہ اپنی مجبوریوں کے ہاتھوں نہ تو کسی سے کوئی گلہ کرنے کے قابل
رہتا ہے اور نہ ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے تو کچھ اپنے لیے جمع کیا ہے وہ ڈرتا
ہے کہ کہیں دنیا والے اب اس کے ماضی کو ہی لعن طعن نہ کرنا شروع ہو جائیں اب اس کا
چُپ رہنا ہی عافیت آمیز ہے۔ شیطان کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہین جانے دیتا جس سے یہ
ظاہر ہو کہ یہ اللہ کا خاص بندہ عبد ہے۔ پریشانی میں مصائب میں گھِرا ہوا بندہ جب شیطانوں جیسے کام کرنا اپنی بڑائی
جانے اور خوب دولت کمائے اور اللہ کی طرف رجوع لانے والا نہ ہو تو سب دنیاوی لوگ
یہی ایک بات کہتے ہیں اور دل سے تسلیم بھی کرتے ہیں کہ یہ صاحب بڑے نعمت والے ہیں
بھئی اللہ کا بڑا کرم ہے اس پہ کیونکہ یہ اللہ کا بڑا شکر زار اور عاجز بندہ ہے
کیونکہ وہ اپنے راز نہیں دیتا وہ یہ بات ہم سب کو کس طرح بتائے کہ جوے یا کسی اور
سورس سے یہ رقم کہاں سے آئی۔ وہ یہ کس طرح بتائے کہ میرے ایک وکیل صاحب تھے انہوں
نے نیلامی کی زمین کا بتایا تھا، پارٹی پہ تو کچھ الزامات تھے اب وہ زمین بحقِ
سرکار ضبط کر لی گئی ہے تو کون ہوگا جو اس مصیبت کو اپنے گلے ڈالے۔پُرانے وقتوں کے
ان خریدے ہوئے پلاٹوں کو جب بیچا جاتا ہے تو 1995 کا پلاٹ 2014 میں بیچا جائے گا
تو صاحب وہ تو ہزاروں کا کڑوڑوں میں بکے گا۔ اب اس کو جب آپ کاروبار میں لگائیں گے
تو پھر ترقی کیوں نہ ہو۔ اب کوئی اُستاد صاحب اس راز کو کس طرح جانےگا۔ امپوسیبل
امپوسیبل امپوسیبل ۔
ایک اور بھی قابل غور بات ہے وہ کیا ہے؟ ان وکیل صاحب کو بھی تو نظرِ
خاص میں رکھنا ہے نا ان کی بھی تو خدمت کرنی ہے۔ ان کو کچھ مال و متاع دینا ہے اور
بھی آفیسرز ہیں اور بھی محکمے ہیں ان کے افسران کو بھی تو پالنا ہے، بجلی کے بلوں
کو صحیح المقدار کے ساتھ کون ادا کرتا پھرے۔ اصل میں جو دیانت امانت صداقت اور
قناعت کا داتھ نہ دے تو کس طرح کا عمل جاری ہو۔
Nice Sir. :)
ReplyDelete